25 ستمبر 2011 - 20:30

یادرہے کہ بحرینی پارلیمان کی کل نشستوں کی تعداد 40 ہے جن میں سے اٹھارہ نمائندے اس سے قبل جمعیۃالوفاق سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے فروری 2011 میں شروع ہونے والے انقلاب کے بعد عوام کے خلاف حکمران خاندان کے ظلم و ستم کے بعد استعفے دیئے تھے اور حالیہ مڈٹرم انتخابات 14 نمائندوں کے انتخابات کے لئے منعقد ہوئے جو مکمل طور پر ناکام رہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گوکہ آل خلیفہ حکومت نے جھوٹ کا سہارا لے کر کہا کہ 51 ٪ ووٹروں نے حق رائےدہی استعمال کیا لیکن "صوت المنامہ" نامی نیوز ویب بیس نے اس جھوٹ کو برملا کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں صرف 17.3 فیصد ووٹروں نے شرکت کی اور یوں بحرین کے انتخابات کے صحیح اعداد و شمار کی اشاعت کے بعد آل خلیفہ کے جھوٹے دعوے طشت از بام ہوگئے۔ اس رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ متعلقہ حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ چوالیس ہزار پانچ سو تیرہ ہے جبکہ ان میں سے صرف پچیس ہزار ایک سو چھبیس ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔بحرینی سیاستدان علي المشيمع نے العالم عربی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: بحرین میں ہفتے کے روز منعقد ہونے والے انتخابات ہر حوالے سے غیر اہم تھے اور عوام نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور اپنے ووٹ کاسٹ نہیں کئے۔ انھوں نے ملت بحرین اور انقلابی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ انقلابی عمل کو شدت بخشیں اور مظاہروں کو دیہی علاقوں تک پھیلادیں اور دیہی علاقوں نیز اپنی ناموس اور مقدسات کا تحفظ کریں کیونکہ آل خلیفہ حکمران عوام کو جبر کے ذریعے کچلنے سے دریغ نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا: بحرین کی امن پسند قوم کو جبر و تشدد کے شدید ترین اقدامات کا سامان ہے اور آل خلیفہ حکومت کو اس سلسلے میں آل سعود کے قابضین کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ ہمارے عوام نہتے ہيں اور پر امن ہیں لیکن امر مسلم ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی اپنے انقلاب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور آل خلیفہ کی حکمرانی کے خاتمے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔انھوں نے کہا: اس وقت عوام اور آل خلیفہ خاندان کے درمیان جھگڑا وجود اور تشخص کا جھگڑا ہے اور ان دو قوتوں کے درمیان صلح و آشتی کا کوئی امکان نہيں ہے اور صلح و آشتی کے امکانات اس وقت مکمل طور پر ناپید ہوگئے جب خلیفیوں نے عوام کی ناموس پر مجرمانہ حملے کئے اور ان کے مقدسات کی بے حرمتی کی، مساجد اور حسینیات کو شہید کیا اور قرآن کو نذر آتش کیا۔انھوں نے کہا: جس صورت حال کا بحرینی عوام کو سامنا ہے اس صورت حال حا سامنا حتی مقبوضہ فلسطین میں فلسطینیوں کو بھی نہیں ہے گو کہ یمن اور لیبیا میں عربی انقلابات کے دوران بھی انسانی المئے سامنے آرہے ہیں لیکن آل سعود اور آل خلیفہ نے انسانیت کش اقدامات کے حوالے سے غاصب صہیونی ریاست، قذاقی اور علی عبداللہ صالح کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ان کے جرائم یقین کی حدوں سے بھی گذر گئی ہیں۔ المشیمع نے کہا: آل خلیفہ اور آل سعود کے گماشتوں نے کل مسجد الجوادین اور کئی رہائشی مکانات کو نذر آتش کیا، گھروں پر حملے کئے اور چادر اور چاردیواری کی حرمت پامال کرتے ہوئے خواتین کو گرفتار کیا اور کئی خواتین کو زد و کوب کیا۔انھوں نے کہا: اس طرح کے تشدد آمیز اقدامات امریکی صدر اوباما کے ماتھے پر بدنامی کا ایک اور بدنما داغ ہے جس نے آل خلیفہ اور آل سعود کو عوامی انقلاب کچلنے کے لئے گرین سگنل دیا اور آل خلیفہ کی نام نہاد اصلاحات کی حمایت کا اعلان کیا۔  دریں اثناء شیخ علی سلمان نے کہا ہے کہ کل گیارہ ہزار کے لگ بھگ رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا چنانچہ اس حساب سے عوام کی شرکت ۱۰ فی صد سے بھی کم رہی ہے جو کہ عوام اور حکومت کے درمیان سخت اختلاف کی علامت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

بحرینی عوام کہہ رہے تھے "ہمیں خلیفی انتخابات نہیں بلکہ بحرینی انتخابات کی ضرورت ہے"۔

دیکھئے پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کا ہجوم!!؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110